دوریوں کے آغاز سے بڑا بے قرار ہوں

دوریوں کے آغاز سے بڑا بے قرار ہوں
کسے حال دل سناؤں بڑا بے قرار ہوں

بیتی ہیں مجھ پے بڑی ہی آزمائشیں
گزرے تمام لمہوں سے بڑا بے قرار ہوں

جتنے بھی دکھ سہے اس کی چاہ میں
میرے دل پے ہیں لکھے بڑا بے قرار ہوں

اک آرزو رہی فقط اس کو پانے کی
پر وہ رہا لاحاصل بڑا بے قرار ہوں

بڑی کٹھن ہے گزری اس کی یاد میں
کوئی اسے بتا دے بڑا بے قرار ہوں

سنتی چلی آئے گلے سے لپٹ کہے
ساک تھا کہاں تُو بڑا بے قرار ہوں

Leave a Comment