سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی

سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی

دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی

اک لحظہ بہے آنسو اک لحظہ ہنسی آئی

سیکھے ہیں نئے دل نے انداز شکیبائی

یہ رات کی خاموشی یہ عالمِ تنہائی

پھر درد اٹھا دل میں پھر یاد تری آئی

اس عالم ویراں میں کیا انجمن آرائی

دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی

اس موسمِ گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے

ساتھ ابرِ بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی

ہر دردِ محبت سے الجھا ہے غمِ ہستی

کیاکیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی

چرکے وہ دیے دل کو محرومئ قسمت نے

اب ہجر بھی تنہائی اور وصل بھی تنہائی

جلووں کے تمنائی جلووں کو ترستے ہیں

تسکین کو روئیں گےجلووں کے تمنائی

دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے

آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی

دنیا ہی فقط میری حالت پہ نہیں چونکی

کچھ تیری بھی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی

ساقی

Leave a Comment