پھر نگاہوں کو پیاس ہے آ جا

پھر نگاہوں کو پیاس ہے آ جا

پھر مرا جی اُداس ہے آ جا

تُو حقیقت ہے یا فسانہ ہے

وہم ہے یا قیاس ہے، آ جا

سُن رہا ہوں میں آہٹیں تیری

تُو کہیں آس پاس ہے ، آ جا!

مَیں چلو گُم سہی فسانوں میں

تُو حقیقت شناس ہے ، آ جا

کوئی دعویٰ  نہیں تعلق کا

رحم کی التماس ہے ، آجا

کب سے ہے منتظر ترا واصفؔ

کب سے ملنے کی آس ہے ، آ جا

واصف علی واصف

Leave a Comment