قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ​ اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ​ ​ اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر​ سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ​ ​ سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں​ حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے …

Read moreقتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ