خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا

خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھاجو چھوڑ گیا اس کو پلٹ کر نہیں دیکھا میری طرح تو نے شب ہجراں نہیں کاٹیمیری طرح اس تیغ پہ کٹ کر نہیں دیکھا تو دشنۂ نفرت ہی کو لہراتا رہا ہےتو نے کبھی دشمن سے لپٹ کر نہیں دیکھا تھے …

Read moreخود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا

دل منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسا

دل منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسا

دل منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسااور جب تجھ سے ملا ٹوٹ کے رویا کیسا زندگی میں بھی غزل ہی کا قرینہ رکھاخواب در خواب ترے غم کو پرویا کیسا اب تو چہروں پہ بھی کتبوں کا گماں ہوتا ہےآنکھیں پتھرائی ہوئی ہیں لب گویا کیسا دیکھ اب قرب …

Read moreدل منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسا

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والاوہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مراسخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا صبح دم چھوڑ گیا نکہت گل کی صورترات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس …

Read moreدوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

سوئے فلک نہ جانب مہتاب دیکھنا

سوئے فلک نہ جانب مہتاب دیکھنا

سوئے فلک نہ جانب مہتاب دیکھنااس شہر دل نواز کے آداب دیکھنا تجھ کو کہاں چھپائیں کہ دل پر گرفت ہوآنکھوں کو کیا کریں کہ وہی خواب دیکھنا وہ موج خوں اٹھی ہے کہ دیوار و در کہاںاب کے فصیل شہر کو غرقاب دیکھنا ان صورتوں کو ترسے گی چشم …

Read moreسوئے فلک نہ جانب مہتاب دیکھنا

عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا

عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا

عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھاخبر نہیں ہے کہ سورج کدھر سے نکلا تھا یہ کون پھر سے انہیں راستوں میں چھوڑ گیاابھی ابھی تو عذاب سفر سے نکلا تھا یہ تیر دل میں مگر بے سبب نہیں اتراکوئی تو حرف لب چارہ گر سے نکلا تھا یہ …

Read moreعجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا